میری زندگی کا مقصد اور نصب العین بقلم حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی

      ] ایک مرتبہ نائر میڈیکل کالج (ممبئی) کے سالانہ میگزین “TONAMEC” کے لیے اس سال کے طالب علم ایڈیٹر ڈاکٹر خلیل الدین شجاع الدین صاحب نے مشاہیر ملک و قوم کے نام ایک سوال لکھ بھیجا کہ از راہ کرم آپ تحریر فرمائیں کہ آپ کا مقصدِ حیات کیا ہے؟ اس سوال کا جواب لکھ بھیجنے والوں میں دنیا کے مشاہیر شامل تھے، جن میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی تھا، حضرت مولانا کا جواب انگریزی میں تھا، جس کا ترجمہ معروف صحافی امین الدین شجاع الدین مرحوم (سابق استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ) کے مجموعۂ مضامین “نقوش فکر و عمل” (صفحہ 314-315، طبع اول، مطبوعہ دارین بک ڈپو، ندوہ روڈ، لکھنؤ) کے حوالہ سے نقل کیا جاتا ہے۔ عبد الہادی اعظمی ندوی[

“میری زندگی کا مقصد اور نصب العین؛ بلکہ ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اور نصب العین کائنات کے خالق و مالک کے حضور مکمل خود سپردگی اور تسلیم و نیاز کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے!

میں زندگی کو ایک امانت سمجھتا ہوں، جس کا ہر لمحہ بیش قیمت ہے، دنیا میرے لیے امتحان گاہ ہے اور یہ زندگی ایک آزمائش!

میں اپنے ہر قول و فعل کے لیے خود کو اللہ کے حضور جواب دہ سمجھتا ہوں، جس کے سلسلے میں آخرت میں مجھ سے سوال کیا جائے گا۔

اس لیے میری زندگی کابنیادی مقصد اپنے رب کی رضا و خوشنودی کا حصول ہے؛ اس کی اطاعت و بندگی کے ذریعہ بھی، اور حقوق العباد کی ادائیگی کی راہ سے بھی، سب کے ساتھ منصفانہ و ہمدردانہ رویہ اور تعاون و خیر خواہی کا جذبہ اپنا کر، اور اپنی مقدور بھر صلاحیت کے مطابق نسل انسانی کی وحدت و مساوات اور اس کی عظمت و حرمت کے لیے جد وجہد کے راستے سے بھی”۔!!!

 

Advertisements

Tagged: , ,

اترك رد

إملأ الحقول أدناه بالمعلومات المناسبة أو إضغط على إحدى الأيقونات لتسجيل الدخول:

WordPress.com Logo

أنت تعلق بإستخدام حساب WordPress.com. تسجيل خروج   / تغيير )

صورة تويتر

أنت تعلق بإستخدام حساب Twitter. تسجيل خروج   / تغيير )

Facebook photo

أنت تعلق بإستخدام حساب Facebook. تسجيل خروج   / تغيير )

Google+ photo

أنت تعلق بإستخدام حساب Google+. تسجيل خروج   / تغيير )

Connecting to %s

%d مدونون معجبون بهذه: