کتاب اسلام اور علم – مجموعۂ مضامین وخطبات مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

ٹائٹل : اسلام اور علم – مجموعۂ مضامین و خطبات مولانا سید ابو الحسن علی ندوی
مرتب : عبد الہادی اعظمی ندوی
صفحات : 136
طبع اول : اگست2012ء
ناشر :
(1) سید احمد شہید اکیڈمی، دار عرفات، تکیہ کلاں، رائے بریلی، انڈیا
(2) دار الاشاعت، اردو بازار، کراچی، پاکستان

یہ کتاب مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے علم کے موضوع سے مناسبت رکھنے والے مضامین اور تقریروں کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں تین مضمون، ایک مکتوب اور آٹھ تقریریں ہیں، ان میں حضرت مولانا نے بتایا ہے کہ علم کا اسلام سے کیسا بنیادی اور گہرا رشتہ ہے، اسلام نے کس طرح علم کی سرپرستی کی ہے اور اس کے لیے کیسے کیسے راستے ہموار کیے ہیں، امت مسلمہ کی قسمت علم کے ساتھ وابستہ ہے، بغیر علم کے مسلمان مسلمان نہیں رہ سکتا، اور علم کا رشتہ خدا کے  نام کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے، اور جو علم بھی خدا کے نام کے بغیر ہوگا وہ انسانیت کی تباہی کا سبب بنے گا، اور جب جب بھی علم تعمیر کے بجائے تخریب کا ذریعہ بنا اس کا بنیادی سبب یہی تھا کہ علم کا رشتہ اللہ کے نام کے ساتھ ختم ہوگیا تھا۔

اسی طرح اس کتاب میں حضرت مولانا کا ایک بہت ہی اہم اور پر مغز مضمون ”انسانی علوم کے میدان میں اسلام کا انقلابی وتعمیری کردار” کے عنوان سے ہے، جس میں مولانا نے یونانی ایرانی اور ہندوستانی فلسفہ و تمدن کے کردار کا تنقیدی مطالعہ کیاہے، اور اس میدان میں اسلام کے تعمیری و انقلابی کردارکا تفصیلی جائزہ پیش فرمایا ہے، اور اس کے اخیر میں اسلام کی عالمگیر علمی تحریک کی خصوصیات (عالمیت و انسانیت، عوامیت و عمومیت، حرکیت، عزیمت وجواں مردی، علم نافع پر توجہ اور زور) تفصیل سے بیان فرمائی ہیں۔

Scan_20170423_0055Scan_20170423_0057Scan_20170423_0056

Advertisements

Tagged: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

اترك رد

إملأ الحقول أدناه بالمعلومات المناسبة أو إضغط على إحدى الأيقونات لتسجيل الدخول:

WordPress.com Logo

أنت تعلق بإستخدام حساب WordPress.com. تسجيل خروج   / تغيير )

صورة تويتر

أنت تعلق بإستخدام حساب Twitter. تسجيل خروج   / تغيير )

Facebook photo

أنت تعلق بإستخدام حساب Facebook. تسجيل خروج   / تغيير )

Google+ photo

أنت تعلق بإستخدام حساب Google+. تسجيل خروج   / تغيير )

Connecting to %s

%d مدونون معجبون بهذه: