ادب پر کوئی بندش نہیں بقلم مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

بقلم حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ

غالبؔ  کہتے ہیں:

فریاد کی کوئی لے نہیں ہے

نالہ پابندِ نے نہیں ہے

رونے اور ہنسنے کی کوئی قومیت یا وطنیت نہیں ہوتی، اور نہ اس کو فن چاہیے، بلکہ سچا ہنسنا اور سچا رونا وہ ہے جو فن سے عاری ہو، جس میں تصنع نہ ہو، کوئی روتا ہے تو درد سے بے قرار ہوکر، کوئی ہنستا ہے تو کسی مسرت کی بنا پر، یہ اندر کا جذبہ ہے، اس لیے رونے اور ہنسنے کے لیے اندر کا جذبہ ہونا چاہیے، اور وہ رونا رونا کہلانے کا مستحق نہیں جس کو ابھارنے والی اندر کی کوئی چیز نہ ہو، درد نہ ہو، کسک نہ ہو، اور وہ ہنسنا ہنسنے کا مصداق نہیں جو کسی کی فرمائش سے ہو۔

ادب کا معاملہ بھی یہی ہے کہ ادب کی نہ کوئی قومیت ہے، نہ وطنیت ہے، نہ جنسیت ہے، اور نہ وہ خاص اصطلاحات کا پابند ہے، نہ خاص ضوابط کا، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ خود ادیبوں نے جنھوں نے اپنی زندگیاں ادب کے لیے وقف کیں، اور اپنی بہترین صلاحیتیں اس کے لیے مخصوص کردیں، انھوں نے بھی ادب کے سمندر کو کسی آب جو میں تصور کیا۔

ادب ادب ہے، خواہ وہ کسی مذہبی انسان کی زبان سے نکلے، کسی پیغمبر کی زبان سے ادا ہو، کسی آسمانی صحیفہ میں ہو، اس کی شرط یہ ہے کہ بات اس انداز سے کہی جائے کہ دل پر اثر ہو، کہنے والا مطمئن ہو کہ میں نے بات اچھی طرح کہہ دی، سننے والا اس سے لطف اٹھائے، اور اس کو قبول کرے۔

حسن پسندی تو یہ ہے کہ حسن جس شکل میں ہو اسے پسند کیا جائے، بلبل کو آپ پابند نہیں کرسکتے کہ اس پھول پر بیٹھے ، اس پھول پر نہ بیٹھے، لیکن یہ کہاں کا حسن مذاق ہے اور یہ کہاں کی حق پسندی ہے کہ اگر گلاب کا پھول کسی مے خانے کے صحن میں اس کے زیر سایہ کھلے تو وہ گلاب ہے اور اس سے لطف اٹھایا جائے، اور اگر کسی مسجد کے چمن میں کھل جائے تو پھر اس میں کوئی حسن نہیں ! کیا یہ جرم ہے کہ اس نے اپنی نمود کے لیے مسجد کا سہارا لیا؟

 حسن  بے  پروا  کو  اپنی  بے  نقابی  کے  لیے

ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بن؟

ہمیں حسن بے پروا سے مطلب ہے کہ شہر و صحرا سے؟ تو ادب کے ساتھ معاملہ یہی کیا گیا، اجازت دیجیے تو فارسی کا بھی شعر پڑھ دوں:

دلِ عبث لب بہ شکوہ دانہ کند

شیشہ تا نہ شکند صدا نہ کند

اگر شیشے کی آواز سنیے تو سمجھیے کہ وہ ٹوٹا ہے، تو یہ ٹوٹے ہوئے دل اور ایک ٹوٹے ہوئے ساغر کی صدا ہے، صدائے احتجاج ہے کہ ادیبوں اور ادب کی بارگاہ میں یہ شرط کردی گئی کہ فلاں قسم کی وردی پہن کر آیئے، رسمیات سے سب سے زیادہ بے پروا ادب ہے، اس کو ہرگز یہ قبول نہیں کہ وہ فلاں وردی پہن کر آئے، اور فلاں زبان بولتا ہو، وہ جہاں بھی ہے ادب ہے، اگر وہ پھٹے پرانے کپڑے میں بھی ہے تو ادب ہے، اور شہ نشین پر بٹھانے اور ذہن نشین کرانے کے قابل ہے، اور وہ اگربادشاہوں کا لباس پہن کر آئے لیکن اس کو اپنے مطلب کو صحیح طرح سے ادا کرنے کا سلیقہ نہ ہو، تو وہ ادب نہیں ہے، ادب اس لیے ادب نہیں ہوجاتا کہ وہ کسی انگریزی داں نے ادا کیا، کسی ترقی پسند نے ادا کیا، شعبۂ اردو کے کسی چیرمین اور پروفیسر نے ادا کیا، صدر نے ادا کیا، وہ ادب ادب ہے خواہ اس کو آپ کسی سائل کی صدا میں سن لیں، کسی غریب کی فریاد میں سن لیں، کسی ماں کو اپنے بچے کو سلاتے ہوئے لوری سنانے میں سن لیں، کسی خدا شناس کے نالۂ نیم شبی میں سن لیں، جو صرف خدا ہی کو سنانا چاہتا ہے، اتفاق سے آپ نے سن لیا، اس لیے ادب جس شکل میں ہو، جس زبان میں ہو، اور جس شخص کی زبان سے ادا ہو، وہ ادب ہے۔

(دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں 1981ء میں  منعقد مذاکرۂ ادبیات اسلامی کے اردو، فارسی ،انگریزی سیکشن کے اختتامی خطبہ سے ماخوذ)

(مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ کی اردو عربی انگریزی کتابوں اور تقریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے  کے لیے  لاگ آن کریں: www.abulhasanalinadwi.org

یا حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی سے متعلق کسی بھی معلومات کے لیے  رابطہ کریں: Alazami2010@gmail.com

Advertisements

Tagged: , , ,

اترك رد

إملأ الحقول أدناه بالمعلومات المناسبة أو إضغط على إحدى الأيقونات لتسجيل الدخول:

WordPress.com Logo

أنت تعلق بإستخدام حساب WordPress.com. تسجيل خروج   / تغيير )

صورة تويتر

أنت تعلق بإستخدام حساب Twitter. تسجيل خروج   / تغيير )

Facebook photo

أنت تعلق بإستخدام حساب Facebook. تسجيل خروج   / تغيير )

Google+ photo

أنت تعلق بإستخدام حساب Google+. تسجيل خروج   / تغيير )

Connecting to %s

%d مدونون معجبون بهذه: